کب وہ تنہائی کے آثار سے گھبرائے ہیں

احسان گھمن

کب وہ تنہائی کے آثار سے گھبرائے ہیں

احسان گھمن

MORE BYاحسان گھمن

    کب وہ تنہائی کے آثار سے گھبرائے ہیں

    لوگ تو رونق بازار سے گھبرائے ہیں

    کون کرتا ہے بھلا آبلہ پائی کا گلا

    ہم تو بس رستوں کی رفتار سے گھبرائے ہیں

    اپنے قامت سے نکلنا پڑا باہر ان کو

    جو شجر سایۂ دیوار سے گھبرائے ہیں

    لوگ قیمت تو لگائیں گے یہ بازار تو ہے

    بے وجہ ہم تو خریدار سے گھبرائے ہیں

    کس لئے مانگ رہے ہیں مری دستار وہ لوگ

    جو مری جرأت گفتار سے گھبرائے ہیں

    ہم کو ایسے نہیں آوارگی سوجھی احسانؔ

    ہم تو اپنے در و دیوار سے گھبرائے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY