کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا

بخش لائلپوری

کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا

بخش لائلپوری

MORE BYبخش لائلپوری

    کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا

    زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا

    لفظ تو لفظ ہیں کاغذ سے بھی خوشبو پھوٹے

    صفحۂ وقت پہ وہ پھول کھلائے رکھنا

    چاند کیا چیز ہے سورج بھی ابھر آئے گا

    ظلمت شب میں لہو دل کا جلائے رکھنا

    حرمت حرف پہ الزام نہ آنے پائے

    سخن حق کو سر دار سجائے رکھنا

    فرش تو فرش فلک پر بھی سنائی دے گا

    میری آواز میں آواز ملائے رکھنا

    کبھی وہ یاد بھی آئے تو ملامت کرنا

    کبھی اس شوخ کی تصویر بنائے رکھنا

    بخشؔ سیکھا ہے شہیدان وفا سے ہم نے

    ہاتھ کٹ جائیں علم منہ سے اٹھائے رکھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY