کبھی اندھیرا کبھی اجالا سنو غزالہ

سعید اشعر

کبھی اندھیرا کبھی اجالا سنو غزالہ

سعید اشعر

MORE BYسعید اشعر

    کبھی اندھیرا کبھی اجالا سنو غزالہ

    کوئی کنایہ کوئی کنارہ سنو غزالہ

    ہم اپنے رستے سے ہٹ گئے ہیں بھٹک گئے ہیں

    نہ کوئی صحرا نہ کوئی دریا سنو غزالہ

    مرے بدن میں دھڑک رہا ہے تڑپ رہا ہے

    فراق لمحوں کا درد سارا سنو غزالہ

    بدلتے موسم کے رنگ سارے نہ تم ہمارے

    نہ اب یہ سورج نہ چاند ہالہ سنو غزالہ

    نہ جی رہے ہیں نہ مر رہے ہیں سسک رہے ہیں

    اجاڑ آنکھیں اجاڑ چہرہ سنو غزالہ

    مری نظر میں چمک رہا ہے دمک رہا ہے

    جہاں ہے جگنو جدھر ہے تارا سنو غزالہ

    ہماری کھڑکی سے دور ہٹ کے ذرا سمٹ کے

    کہیں چراغاں کہیں سویرا سنو غزالہ

    تجھے تو جانا تھا جا چکی ہو مجھے یقیں ہے

    بدل رہا ہوں میں اب ٹھکانہ سنو غزالہ

    نہ تم ہمارے نہ ہم تمہارے ہیں جھوٹ سارے

    سنو غزالہ سنو غزالہ سنو غزالہ

    یہ کیسی الفت کا کھیل ہم نے ہمیشہ کھیلا

    نہ کوئی جیتا نہ کوئی ہارا سنو غزالہ

    مرے سفر میں یہ دھوپ چھاؤں نئی نہیں ہے

    وہیں ہے جنگل جہاں ہے رستہ سنو غزالہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY