کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

عرش ملسیانی

کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    نہ کسی کے دل میں غبار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    یہ چلی ہے کیسی ہوا کہ اب نہیں کھلتے پھول ملاپ کے

    کبھی دور فصل بہار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    تھیں بہم نشاط کی محفلیں تھیں قدم میں لطف کی منزلیں

    بڑا زندگی پہ نکھار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    تھی ہر ایک بات میں چاشنی حق و صدق و لطف و خلوص کی

    رہ حق پہ چلنا شعار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    ہوئے لڑ کے ہم سے اگر جدا رکھی اور ملک کی اک بنا

    یہ تمہیں کا شوق فرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    ہوئی جنگ و حرب کی ابتدا تو بتاؤ بس یہی اک پتا

    کوئی تم میں ننگ وقار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    مآخذ
    • کتاب : Kulliyat-e-Arsh (Pg. 143)
    • Author : Arsh Malsiyani
    • مطبع : Ali Imran Chaudhary

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY