کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے

خالد عبادی

کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے

خالد عبادی

MORE BYخالد عبادی

    کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے

    ایسے میں جب تیر ستم کی بارش ہوتی ہے

    حال ہمارا سننے والے جانے کیا سوچیں

    یوں بھی کیسی کیسی ذہنی کاوش ہوتی ہے

    دیواروں پر کیا لکھا ہے پڑھ کے بتلاؤ

    کیا ایسی باتوں پر یارو نالش ہوتی ہے

    ہم اس کی تعمیل میں دیوانے بن جاتے ہیں

    دل ایسے ناداں کی جب فرمائش ہوتی ہے

    دنیا سے اک روز ہماری بات ہوئی چھپ کر

    سو بے چاری کی اب تک فہمائش ہوتی ہے

    ایک ہی چھت کے نیچے چاروں وحشی کیا بیٹھے

    داناؤں نے سمجھا کوئی سازش ہوتی ہے

    یوں بھی ہم کو شاعر واعر کہلانا کب تھا

    شعروں میں بھی اپنے جھوٹی دانش ہوتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : khush ahjaar (Pg. 47)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY