کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے

فیض احمد فیض

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے

فیض احمد فیض

MORE BYفیض احمد فیض

    کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے

    وہ آزمائش دل و نظر کی وہ قربتیں سی وہ فاصلے سے

    کبھی کبھی آرزو کے صحرا میں آ کے رکتے ہیں قافلے سے

    وہ ساری باتیں لگاؤ کی سی وہ سارے عنواں وصال کے سے

    نگاہ و دل کو قرار کیسا نشاط و غم میں کمی کہاں کی

    وہ جب ملے ہیں تو ان سے ہر بار کی ہے الفت نئے سرے سے

    بہت گراں ہے یہ عیش تنہا کہیں سبک تر کہیں گوارا

    وہ درد پنہاں کہ ساری دنیا رفیق تھی جس کے واسطے سے

    تمہیں کہو رند و محتسب میں ہے آج شب کون فرق ایسا

    یہ آ کے بیٹھے ہیں میکدے میں وہ اٹھ کے آئے ہیں میکدے سے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    مأخذ :
    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Kulliyat-e-Faiz) (Pg. 110)
    • مطبع : Educational Publishing House (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY