کبھی خود کو کبھی خوابوں کو صدا دیتے ہیں

عارف اعظمی

کبھی خود کو کبھی خوابوں کو صدا دیتے ہیں

عارف اعظمی

MORE BYعارف اعظمی

    کبھی خود کو کبھی خوابوں کو صدا دیتے ہیں

    کیسی دیوار اٹھاتے ہیں گرا دیتے ہیں

    آؤ دو چار قدم چل کے بھی دیکھیں یارو

    ہم سفر اپنے کہاں ہم کو دغا دیتے ہیں

    جانے کیا سوچ کے اے دوست یہ ارباب چمن

    زہر پاشی سے وہ پودوں کو جلا دیتے ہیں

    یہ گزر گاہ کے پتھر تری ٹھوکر میں سہی

    ہر قدم پر تجھے منزل کا پتا دیتے ہیں

    یہ وہ دنیا ہے جہاں جھوٹ چھپانے کے لئے

    لوگ سچائی کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں

    جب بھی آتے ہیں اسے چھو کے ہوا کے جھونکے

    دل کے سوئے ہوئے جذبات جگا دیتے ہیں

    دور و نزدیک یہ سناٹوں کے گہرے سائے

    آنے والے کسی طوفاں کا پتہ دیتے ہیں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY