کبھی لگاوٹ کبھی عداوت مجھے اجازت

سعید اشعر

کبھی لگاوٹ کبھی عداوت مجھے اجازت

سعید اشعر

MORE BYسعید اشعر

    کبھی لگاوٹ کبھی عداوت مجھے اجازت

    تجھے ہے سوجھی نئی شرارت مجھے اجازت

    میں آئنے کو قریب لا کے ذرا جو رکھوں

    بدلنے لگتی ہے تیری صورت مجھے اجازت

    ہر ایک تجھ کو بہت ہے پیارا بہت ہی پیارا

    میں جانتا ہوں یہ تیری عادت مجھے اجازت

    تری طلب میں جہان سارا یہاں کھڑا ہے

    مجھے اجازت مجھے اجازت مجھے اجازت

    تمہارے لہجے کی سرد مہری تو کم نہ ہوگی

    ٹھٹھر گئی ہے مری سماعت مجھے اجازت

    یہاں تو بس ہیں تمام دانشوران الفت

    سنوں میں کس کس کی اب خطابت مجھے اجازت

    میں اپنے ہاتھوں سے لکھے کاغذ جلاؤں کیسے

    تجھے مبارک تری یہ جرأت مجھے اجازت

    کوئی گلہ ہے نہ کوئی شکوہ نہ کوئی رنجش

    جہاں رہو تم رہو سلامت مجھے اجازت

    بدل بدل کے چراغ رکھے ہیں طاقچوں پر

    قبولیت کی نہ آئی ساعت مجھے اجازت

    پکار لینا بلا جھجک تم مجھے کہیں بھی

    اگر پڑے جو مری ضرورت مجھے اجازت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY