کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

آزاد گلاٹی

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

    خموشیوں نے مجھی سے کیا جدا مجھ کو

    بدن کے سونے کھنڈر میں کبھی جلا مجھ کو

    میں تیری روح کی ضو ہوں نہ یوں بجھا مجھ کو

    میں اپنی ذات کی ہم سائیگی سے ڈرتا ہوں

    مرے قریب خدا کے لیے نہ لا مجھ کو

    میں چپ ہوں اپنی شکست صدا کی وحشت پر

    مجھے نہ بولنا پڑ جائے مت بلا مجھ کو

    یہ میں تھا یا مرے اندر کا خوف تھا جس نے

    تمام عمر دی تنہائی کی سزا مجھ کو

    بھٹک رہا ہوں میں بے سمت راستوں کی طرح

    کسی بھی سمت کا ہو راستہ دکھا مجھ کو

    ہر اک نے دیکھا مجھے اپنی اپنی نظروں سے

    کوئی تو میری نظر سے بھی دیکھتا مجھ کو

    سمو کے آنکھوں میں امڈی گھٹائیں اے آزادؔ

    وہ ایک درد کا صحرا بنا گیا مجھ کو

    مآخذ
    • کتاب : Dasht-e-Sada (Pg. 31)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY