کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی

شہاب سرمدی

کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی

شہاب سرمدی

MORE BYشہاب سرمدی

    کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی

    حقیقتوں کا واسطہ عجیب شے ہے زندگی

    ترا خیال دے گیا ہے آسرا کہیں کہیں

    ترا فراق حوصلے بڑھا گیا کبھی کبھی

    اسی میں کچھ سکون ہے شعور غم کا ساتھ دیں

    یہی خوشی کی بات ہے چلے چلیں خوشی خوشی

    ہزار ٹوٹتے گئے طلسم روپ رنگ کے

    مگر نہ چین سے رہا مرا شعار بت گری

    چمن میں کون دیکھیے سحر کی تاب لا سکے

    یہ رات بھر کی اوس میں نہا گئی کلی کلی

    گزر گئے اسی طرف سے ارتقا کے قافلے

    مگر اسی دیار میں لٹا خلوص آدمی

    وہ میرا آشیاں ہی کیا تمام آگ تھی لگی

    یہی کہو کہ بچ گئی چمن کی پھول پنکھڑی

    قریب صبح کیا کہوں عجیب اک ہوا چلی

    جھکی ہر ایک شاخ گل کلی کی آنکھ لگ گئی

    ہے چاک گل کا ماجرا جراحتوں کا سلسلہ

    وہ زخم پھر نہ بھر سکا گری جہاں سے پنکھڑی

    شہابؔ نکتہ سنج نے رکھا ہے سینت سینت کے

    سلیقۂ کلام کی جو ساکھ ہے رہی سہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY