کبھی تیغ تیز سپرد کی کبھی تحفۂ گل تر دیا

ثروت حسین

کبھی تیغ تیز سپرد کی کبھی تحفۂ گل تر دیا

ثروت حسین

MORE BYثروت حسین

    کبھی تیغ تیز سپرد کی کبھی تحفۂ گل تر دیا

    کسی شاہ زادی کے عشق نے مرا دل ستاروں سے بھر دیا

    یہ جو روشنی ہے کلام میں کہ برس رہی ہے تمام میں

    مجھے صبر نے یہ ثمر دیا مجھے ضبط نے یہ ہنر دیا

    زمیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا نیا شہر ایک بساؤں گا!

    مرے بخت نے مرے عہد نے مجھے اختیار اگر دیا

    کسی زخم تازہ کی چاہ میں کہیں بھول بیٹھوں نہ راہ میں

    کسی نوجواں کی نگاہ نے جو پیام وقت سحر دیا

    مرے ساتھ بود و نبود میں جو دھڑک رہا ہے وجود میں

    اسی دل نے ایک جہان کا مجھے روشناس تو کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY