کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوں

مصحفی غلام ہمدانی

کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوں

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوں

    منوں ہوں آپ ہی پھر آپھی روٹھ جاتا ہوں

    معاملہ تو ذرا دیکھیو تو چاہت کا

    مجھے ستاوے ہے وہ اس کو میں ستاتا ہوں

    رکا ہوا وہ مجھے دیکھ کر جو بولے ہے

    تو بولتا نہیں میں اس سے سر ہلاتا ہوں

    پر اتنے میں جو میں سوچوں ہوں یہ نہ رک جاوے

    زباں پہ اپنی بھی اک آدھ حرف لاتا ہوں

    کہے ہے دل یہ کہ ایسے سے دوستی ہے عبث

    برائیوں کا جو اس کی خیال لاتا ہوں

    یہ کہہ کے بیٹھ رہوں ہوں جو اپنے گھر میں ذرا

    تو دل کہے ہے یہ گھبرا کے ''میں تو جاتا ہوں''

    جب اپنا حال یہ دیکھوں ہوں میں تو ہونا چار

    جھپٹ کے پیچھے سے دل کے قدم اٹھاتا ہوں

    بتا تو مصحفیؔ کیا تجھ کو ہو گیا کم بخت

    کچھ ان دنوں ترا چہرہ تغیر پاتا ہوں

    مآخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(divan-e-doom) (Pg. 206)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY