کبھی تو دیکھے ہماری عرق فشانی دھوپ

امداد علی بحر

کبھی تو دیکھے ہماری عرق فشانی دھوپ

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    کبھی تو دیکھے ہماری عرق فشانی دھوپ

    جلے بھوؤں پہ کرے اپنی مہربانی دھوپ

    ہمارے داغ کو جب آفتاب نے دیکھا

    ہوا یہ زرد نظر آئے زعفرانی دھوپ

    تپ فراق وہ بد ہے چڑھے جو سورج کو

    پگھل کے برف کی صورت ہو پانی پانی دھوپ

    سفر سقر ہے ہزاروں بلائیں سر پر ہیں

    ہے ایک ان میں سے آسیب آسمانی دھوپ

    تہہ سحاب رہے آفتاب روز فراق

    شعاعوں سے نہ کرے مجھ پہ تیغ رانی دھوپ

    کٹے جو رات بھی زخمیٔ ہجر کو تو کیا

    ہے مار ڈالنے کو چاندنی کی ثانی دھوپ

    رہے شگفتہ ہم اس طرح جیسے آگ کے پھول

    کبھی نہ دشت نوردی میں ہم نے پانی دھوپ

    سفید بال ہوئے جیسے تیور آتے ہیں

    بہت ضعیف کو دیتے ہے سرگرانی دھوپ

    ہمیں تو فصل زمستاں بہت خوش آتی ہے

    وہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور وہ سہانی دھوپ

    لگائے ابر کا لکا نہ کس طرح چھتری

    کرے نہ چاند سے رنگت کو آسمانی دھوپ

    عجب نہیں گل رخسار سوسنی ہو جائیں

    بہار حسن کو ہے آفت خزانی دھوپ

    امیر شال‌ دوشالوں میں گرم راحت و عیش

    غریب کے لیے جاڑوں میں زندگانی دھوپ

    ذرا سی گرم ہوا میں یہ منہ بناتی ہیں

    نہ کر سکے گی گلوں کی مزاج دانی دھوپ

    موافقت نہ کبھی سرد و گرم میں ہوگی

    ہے چاندنی مری پیری تری جوانی دھوپ

    شباب یاد دلاتے ہے سر سفیدی بحرؔ

    ہے آفتاب‌ جوانی کی یہ نشانی دھوپ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY