کبھی تو سوچ ترے سامنے نہیں گزرے

مجید امجد

کبھی تو سوچ ترے سامنے نہیں گزرے

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    کبھی تو سوچ ترے سامنے نہیں گزرے

    وہ سب سمے جو ترے دھیان سے نہیں گزرے

    یہ اور بات کہ ہوں ان کے درمیاں میں بھی

    یہ واقعے کسی تقریب سے نہیں گزرے

    ان آئنوں میں جلے ہیں ہزار عکس عدم

    دوام درد ترے رت جگے نہیں گزرے

    سپردگی میں بھی اک رمز خود نگہ داری

    وہ میرے دل سے مرے واسطے نہیں گزرے

    بکھرتی لہروں کے ساتھ ان دنوں کے تنکے بھی تھے

    جو دل میں بہتے ہوئے رک گئے نہیں گزرے

    انہیں حقیقت دریا کی کیا خبر امجدؔ

    جو اپنی روح کی منجدھار سے نہیں گزرے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کبھی تو سوچ ترے سامنے نہیں گزرے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY