کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئے

بیدم شاہ وارثی

کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئے

    پھری ہے جستجو تری کہاں کہاں لیے ہوئے

    زمین دل کی خاک ہے صد آسماں لیے ہوئے

    تنزلات عشق میں ترقیاں لیے ہوئے

    دل و جگر لیے ہوئے متاع جاں لیے ہوئے

    کسی کا ناوک نظر تلاشیاں لیے ہوئے

    اسی گلی سے آئی ہے شمیم زلف لائی ہے

    نسیم صبح آئی ہے تسلیاں لیے ہوئے

    مرے غم نہاں میں ہے نوید عشرت آفریں

    بہار ہی بہار ہے مری خزاں لیے ہوئے

    ہماری آہ کے شرر ہمیں کو پھونکنے لگے

    ہوا کے جھونکے آئے ساتھ بجلیاں لیے ہوئے

    تری گلی میں ماہ رو پڑے ہوئے ہیں چار سو

    تمام ذرے خاک کے تجلیاں لیے ہوئے

    نہ قرب گل کی تاب تھی نہ ہجر گل میں چین تھا

    چمن چمن پھرے ہم اپنا آشیاں لیے ہوئے

    نگاہ اہل راز میں حقیقت و مجاز میں

    ہماری بے نشانیاں ترا نشاں لیے ہوئے

    اٹھے ہیں حشر میں فدائے کوئے یار اس طرح

    جبیں میں سجدے دل میں یاد آستاں لئے ہوئے

    نہ دل ملے گا بیدمؔ اور نہ دل کی حسرتیں کہیں

    کہ گم ہوا ہے یوسف اپنا کارواں لیے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے