کبھی یقین کی دنیا میں جو گئے سپنے

مینک اوستھی

کبھی یقین کی دنیا میں جو گئے سپنے

مینک اوستھی

MORE BYمینک اوستھی

    کبھی یقین کی دنیا میں جو گئے سپنے

    اداسیوں کے سمندر میں کھو گئے سپنے

    برس رہی تھی حقیقت کی دھوپ گھر باہر

    سہم کے آنکھ کے آنچل میں کھو گئے سپنے

    کبھی اڑا کے مجھے آسمان تک لائے

    کبھی شراب میں مجھ کو ڈبو گئے سپنے

    ہمیں تھے نیند میں جو ان کو سائباں سمجھا

    کھلی جو آنکھ تو دامن بھگو گئے سپنے

    کھلی رہی جو مری آنکھ میرے مرنے پر

    سدا سدا کے لیے آج کھو گئے سپنے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY