کفیل ساعت سیار رکھا ہوتا ہے

الیاس بابر اعوان

کفیل ساعت سیار رکھا ہوتا ہے

الیاس بابر اعوان

MORE BYالیاس بابر اعوان

    کفیل ساعت سیار رکھا ہوتا ہے

    کہ ہم نے دل یونہی سرشار رکھا ہوتا ہے

    میں رکھ کے جاتا ہوں کھڑکی میں کچھ گلاب کے پھول

    کسی نے سایۂ دیوار رکھا ہوتا ہے

    عجیب لوگ ہیں دیوار شب پہ چلتے ہیں

    چراغ جیب میں بے کار رکھا ہوتا ہے

    کبھی کبھار اسے پھل پھول لگنے لگتے ہیں

    ہمارے شانوں پہ جو بار رکھا ہوتا ہے

    عجیب شہر ہے پتھر اسی پہ آتا ہے

    جو آئنہ پس دیوار رکھا ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے