کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے

اعتبار ساجد

کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے

    یہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہے

    در و دیوار سناٹے کی چادر میں ہیں خوابیدہ

    بھلا ایسی جگہ زندہ کوئی انسان رہتا ہے

    مسلسل پوچھنے پر ایک چلمن سے جواب آیا

    یہاں اک دل شکستہ صاحب دیوان رہتا ہے

    جھجک کر میں نے پوچھا کیا کبھی باہر نہیں آتا

    جواب آیا اسے خلوت میں اطمینان رہتا ہے

    کہا کیا اس کے رشتہ دار بھی ملنے نہیں آتے

    جواب آیا یہ صحرا رات دن سنسان رہتا ہے

    کہا کوئی تو ہوگا اس کے دکھ سکھ بانٹنے والا

    جواب آیا نہیں خالی یہ گھر یہ لان رہتا ہے

    کہا اس گھر کے آنگن میں ہیں کچھ پھولوں کے پودے بھی

    جواب آیا کہ خالی پھر بھی ہر گلدان رہتا ہے

    کہا کیا اس محلے میں نہیں پرسان حال اس کا

    جواب آیا خیال اس کا مجھے ہر آن رہتا ہے

    خدا کا شکر ہے ہم اک فضا میں سانس لیتے ہیں

    اگر ملتے نہیں اتنا تو اطمینان رہتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Mujhe Koi Sham Udhar Do (Pg. 133)
    • Author : Aitabar Sajid
    • مطبع : Ilm o Irfan Publishers Lahore (2007,2009)
    • اشاعت : 2007,2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY