کہا گیا نہ کبھی اور کبھی سنا نہ گیا

رخشاں ہاشمی

کہا گیا نہ کبھی اور کبھی سنا نہ گیا

رخشاں ہاشمی

MORE BY رخشاں ہاشمی

    کہا گیا نہ کبھی اور کبھی سنا نہ گیا

    میں ایسا حرف ہوں جو آج تک لکھا نہ گیا

    دبا کے ہونٹوں میں لائی تھی مدعا کیا کیا

    مگر وہ سامنے آیا تو کچھ کہا نہ گیا

    بچھڑ کے تم سے ابھی تک بھٹک رہی ہوں میں

    تمہارے گھر کی طرف کوئی راستہ نہ گیا

    ابھی بھی یاد ہے تم کو ہمارے ہاتھ کی چائے

    خدا کا شکر ابھی تک وہ ذائقہ نہ گیا

    کئی مواقع مری زندگی میں آئے مگر

    کسی پہ ہنس لئے اتنا کہ پھر ہنسا نہ گیا

    میں اپنے چہرے پر آنکھیں تلاش کرتی رہی

    وہ جب تلک مجھے اپنی جھلک دکھا نہ گیا

    میں آتے آتے نشانے پہ رہ گئی رخشاںؔ

    کہ اب کے بار بھی اس کا غلط نشانہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY