کہا جو اس نے کہ کہئے تو کچھ گلا کیا ہے

جاوید لکھنوی

کہا جو اس نے کہ کہئے تو کچھ گلا کیا ہے

جاوید لکھنوی

MORE BYجاوید لکھنوی

    کہا جو اس نے کہ کہئے تو کچھ گلا کیا ہے

    مری زبان سے نکلا کہ فائدہ کیا ہے

    اداس دیکھ کے محفل کو میری کہتے ہیں

    یہاں بھی کوئی مصیبت کا مبتلا کیا ہے

    بس آج تک تو بہت خوب ہجر میں گزری

    اب آگے دیکھیے تقدیر میں لکھا کیا ہے

    تمام ہو گئے ہم داستان ہو گئی ختم

    اب اور قصۂ فرقت کی انتہا کیا ہے

    گلے سے آ کے ملے وہ تو اور دل تڑپا

    بڑھے دوا سے تو پھر درد کی دوا کیا ہے

    ہر ایک اشک کے قطرے میں خوں کی شرکت نے

    ہمارا زخم جگر بے محل ہنسا کیا ہے

    جو دیکھتا ہوں کبھی آئنہ میں فرقت میں

    تو خود بھی کہتا ہوں یہ آپ کو ہوا کیا ہے

    ستم پہ داد کے خواہاں تمہیں سے ہیں جاویدؔ

    وہ جانیں کیا کہ جفا کیا ہے اور وفا کیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY