کہاں آفاق سارا چاہیے تھا

بھاسکر شکلا

کہاں آفاق سارا چاہیے تھا

بھاسکر شکلا

MORE BYبھاسکر شکلا

    کہاں آفاق سارا چاہیے تھا

    ہمیں بس اک ستارہ چاہیے تھا

    جہاں دیکھوں وہاں آؤ نظر تم

    نظر کو وہ نظارہ چاہیے تھا

    میری خاموشیوں کا تو سبب تھا

    مجھے تیرا اشارہ چاہیے تھا

    دوبارہ چاہتا تھا عشق کرنا

    مجھے تو ہی دوبارہ چاہیے تھا

    غزل لکھنے لگا فرقت میں تیری

    کوئی دل کش سہارا چاہیے تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY