کہاں جاتے ہیں آگے شہر جاں سے

رسا چغتائی

کہاں جاتے ہیں آگے شہر جاں سے

رسا چغتائی

MORE BYرسا چغتائی

    کہاں جاتے ہیں آگے شہر جاں سے

    یہ بل کھاتے ہوئے رستے یہاں سے

    وہاں اب خواب گاہیں بن گئی ہیں

    اٹھے تھے آب دیدہ ہم جہاں سے

    زمیں اپنی کہانی کہہ رہی ہے

    الگ اندیشۂ سود و زیاں سے

    انہیں بنتے بگڑتے دائروں میں

    وہ چہرہ کھو گیا ہے درمیاں سے

    اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے

    تری یادوں کے بوسیدہ مکاں سے

    میں اپنے گھر کی چھت پر سو رہا ہوں

    کہ باتیں کر رہا ہوں آسماں سے

    وہ ان آنکھوں کی محرابوں میں ہر شب

    ستارے ٹانک جاتا ہے کہاں سے

    رساؔ اس آبنائے روز و شب میں

    دمکتے ہیں کنول فانوس جاں سے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    رسا چغتائی

    رسا چغتائی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY