کہاں کسی کا بنایا ہوا بناتے ہیں

خورشید طلب

کہاں کسی کا بنایا ہوا بناتے ہیں

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    کہاں کسی کا بنایا ہوا بناتے ہیں

    نیا بناتے ہیں جب ہم نیا بناتے ہیں

    کسی کا نقش بناتے ہیں لوح دل پر ہم

    کسی کا عکس سر آئینہ بناتے ہیں

    نیا بنانے کی حسرت کبھی نہیں مرتی

    نئے سرے سے نئے کو نیا بناتے ہیں

    میں اک زمین ہوں امن و اماں کی متلاشی

    مرے عزیز مجھے کربلا بناتے ہیں

    ہماری دشت نوردی کو گمرہی نہ سمجھ

    بھٹکنے والے نیا راستہ بناتے ہیں

    کہیں بھی جائیں کسی شہر میں سکونت ہو

    ہم اپنی طرز کی آب و ہوا بناتے ہیں

    زمینیں تنگ ہوئی جا رہی ہیں دل کی طرح

    ہم اب مکان نہیں مقبرہ بناتے ہیں

    طلبؔ جو لوگ قناعت پسند ہوتے ہیں

    وہ زندگی کو کہاں مسئلہ بناتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Jahaan Gard (Pg. 151)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے