کہاں کسی کو دکھائی گئی ہے خاموشی

آصف رشید اسجد

کہاں کسی کو دکھائی گئی ہے خاموشی

آصف رشید اسجد

MORE BYآصف رشید اسجد

    کہاں کسی کو دکھائی گئی ہے خاموشی

    بغیر جسم بنائی گئی ہے خاموشی

    تضاد یہ ہے بنا کر کھنکتی مٹی سے

    مرے لہو میں ملائی گئی ہے خاموشی

    بلا کا شور انڈیلا گیا ہے کانوں میں

    مگر زباں کو سکھائی گئی ہے خاموشی

    زمیں پہ اس کا گزارا نہیں تھا اس باعث

    خلا کے بیچ بسائی گئی ہے خاموشی

    کچھ اس لیے بھی ہوا شور بزم مے کہ انہیں

    غزل بنا کے سنائی گئی ہے خاموشی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY