کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا

راجیندر منچندا بانی

کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا

    نظر کے سامنے منظر ہے بے کرانی کا

    ندی کے دونوں طرف ساری کشتیاں گم تھیں

    بہت ہی تیز تھا اب کے نشہ روانی کا

    میں کیوں نہ ڈوبتے منظر کے ساتھ ڈوب ہی جاؤں

    یہ شام اور سمندر اداس پانی کا

    پرندے پہلی اڑانوں کے بعد لوٹ آئے

    لپک اٹھا کوئی احساس رائیگانی کا

    میں ڈر رہا ہوں ہوا میں کہیں بکھر ہی جائے

    یہ پھول پھول سا لمحہ تری نشانی کا

    وہ ہنستے کھیلتے اک لفظ کہہ گیا بانیؔ

    مگر مرے لیے دفتر کھلا معانی کا

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 287)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے