کہاں تلاش میں جاؤں کہ جستجو تو ہے

عاصم واسطی

کہاں تلاش میں جاؤں کہ جستجو تو ہے

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    کہاں تلاش میں جاؤں کہ جستجو تو ہے

    کہیں نہیں ہے یہاں اور چار سو تو ہے

    محاذ جنگ پہ کھلتے نہیں ہیں ہاتھ مرے

    میں کیا کروں کہ مقابل مرا عدو تو ہے

    بدل گیا ہے زمانہ بدل گئی دنیا

    نہ اب وہ میں ہوں مری جاں نہ اب وہ تو تو ہے

    کسی نے اٹھ کے یہاں سے کہیں نہیں جانا

    سجی ہے بزم کہ موضوع گفتگو تو ہے

    میں دیکھتا ہوں کسے کچھ مجھے نہیں معلوم

    کوئی بھی سامنے آ جائے ہو بہو تو ہے

    تمام عالم سرمست ہے تری ایجاد

    یہ مے کدہ ہے ترا صاحب سبو تو ہے

    تری طلب نے رکھا انہماک پاکیزہ

    نماز عشق ترے واسطے وضو تو ہے

    مرا گناہ بھی شائستہ توکل ہے

    کہ تو خدا ہے مرا اور خیر خو تو ہے

    یہ آئنے میں کوئی اور شخص ہے عاصمؔ

    غلط خیال ہے تیرا کہ رو بہ رو تو ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY