کہیں بھی سایہ نہیں کس طرف چلے کوئی

شہزاد احمد

کہیں بھی سایہ نہیں کس طرف چلے کوئی

شہزاد احمد

MORE BYشہزاد احمد

    کہیں بھی سایہ نہیں کس طرف چلے کوئی

    درخت کاٹ گیا ہے ہرے بھرے کوئی

    عجیب رت ہے زباں ذائقے سے ہے محروم

    تمام شہر ہی چپ ہو تو کیا کرے کوئی

    ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم

    چراغ بھی نہ جلائے چراغ سے کوئی

    یہ زندگی ہے سفر منجمد سمندر کا

    وہیں پہ شق ہو زمیں جس جگہ رکے کوئی

    پلٹ کر آ نہیں سکتے گئے ہوئے لمحے

    تمام عمر بھی اب جاگتا رہے کوئی

    مثال عکس مقید حصار ذات میں ہوں

    وہ موج ہوں جسے رستہ نہ مل سکے کوئی

    پھر اس کے بعد بکھر جاؤں ریت کی صورت

    بس ایک بار مجھے ٹوٹ کر ملے کوئی

    حضور حسن یہ دل کاسۂ گدائی ہے

    ہوں وہ فقیر جسے بھیک بھی نہ دے کوئی

    سوال اس نے بھی کوئی نہیں کیا شہزادؔ

    جواب بن نہ پڑے جس کے سامنے کوئی

    مأخذ :
    • کتاب : Deewar pe dastak (Pg. 913)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY