کہیں چراغ جلا روشنی کہیں پہنچی

کاوش بدری

کہیں چراغ جلا روشنی کہیں پہنچی

کاوش بدری

MORE BY کاوش بدری

    INTERESTING FACT

    شمارہ 234 فروری 2000

    کہیں چراغ جلا روشنی کہیں پہنچی

    کھلی تھی آنکھ کہیں زندگی کہیں پہنچی

    جو روبرو ہے اسی کی تلاش جاری ہے

    نظر اٹھی کہیں بد قسمتی کہیں پہنچی

    ہزار فاصلے طے کر کے بھی وہیں ہم ہیں

    کہیں سے ہو کے تمہاری گلی کہیں پہنچی

    لہو اچھال کے بنجر زمیں کو سینچا تھا

    غضب تو یہ ہے کہ ساری نمی کہیں پہنچی

    خوشی کا کیا ہے بھروسا ملے ملے نہ ملے

    وہ میرے گھر کا پتہ ڈھونڈھتی کہیں پہنچی

    وہ مضطرب ہے کہ فرزانگی کو کچھ نہ ملا

    میں مطمئن ہوں کہ دیوانگی کہیں پہنچی

    اڑان میری پر و بال سے بھی آگے تھی

    اڑا کے مجھ کو مری شاعری کہیں پہنچی

    مآخذ:

    • کتاب : Shabkhoon (Urdu Monthly) (Pg. 1572)
    • Author : Shamsur Rahman Faruqi
    • مطبع : Shabkhoon Po. Box No.13, 313 rani Mandi Allahabad (June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II)
    • اشاعت : June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY