کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے

عزم بہزاد

کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے

عزم بہزاد

MORE BYعزم بہزاد

    کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے

    کہیں لب بستہ رہ جانے کی حسرت رو رہی ہے

    کسی دیوار پر ناخن نے لکھا ہے رہائی

    کسی گھر میں اسیری کی اذیت رو رہی ہے

    کہیں منبر پہ خوش بیٹھا ہے اک سجدے کا نشہ

    کسی محراب کے نیچے عبادت رو رہی ہے

    یہ ماتھے پر پسینے کی جو لرزش تم نے دیکھی

    یہ اک چہرے پہ لا حاصل مشقت رو رہی ہے

    عجب محفل ہے سب اک دوسرے پر ہنس رہے ہیں

    عجب تنہائی ہے خلوت کی خلوت رو رہی ہے

    یہ خاموشی نہیں سب التجائیں تھک چکی ہیں

    یہ آنکھیں تر نہیں رونے کی ہمت رو رہی ہے

    جو بعد از ہجر آیا اس کو کیسے وصل کہہ دوں

    شکایت سے گلے مل کر ندامت رو رہی ہے

    اسے غصہ نہ سمجھو عزمؔ یہ میرے لہو میں

    مسلسل ضبط کرنے کی روایت رو رہی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عزم بہزاد

    عزم بہزاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY