کہیں پر زندگی کا نام نامی موج مستی ہے

ایاز احمد طالب

کہیں پر زندگی کا نام نامی موج مستی ہے

ایاز احمد طالب

MORE BYایاز احمد طالب

    کہیں پر زندگی کا نام نامی موج مستی ہے

    کہیں پر آدمیت زندہ رہنے کو ترستی ہے

    جہان زندگی کی قدرتی تصویر ہیں دونوں

    کہیں سوکھا پڑا ہے اور کہیں بارش برستی ہے

    تری دولت تجھے کیا فیض پہنچائے گی تیرے بعد

    میسر زندگی جتنی بھی قیمت پر ہو سستی ہے

    کسی قابل میں ہوتا تو کبھی کا قتل ہو جاتا

    کہ ہر اہل صلاحیت کی دشمن میری بستی ہے

    محبت ہی کیا کرتی ہے آمادہ بغاوت پر

    محبت ہی وفاداری کی زنجیروں میں کستی ہے

    کما لینا مگر ہرگز نہ کرنا پیار دولت سے

    یہ ناگن اپنے شیدا کو نہتھا کر کے ڈستی ہے

    کبھی طالبؔ یہاں انسانیت کی قدر ہوتی تھی

    مگر اب جس طرف بھی دیکھتا ہوں زر پرستی ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Almaas (Pg. 72)
    • Author : Ayaz Ahmad Talib
    • مطبع : Ayaz Ahmad Talib (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY