کہیں سے آتی صدا ہے کوئی

رشمی صبا

کہیں سے آتی صدا ہے کوئی

رشمی صبا

MORE BY رشمی صبا

    کہیں سے آتی صدا ہے کوئی

    صدا نہیں ہے دعا ہے کوئی

    کہاں پتہ تھی یہ بات مجھ کو

    کہ مجھ میں کب سے چھپا ہے کوئی

    سمجھ رہے تھے جسے جزیرہ

    سمندروں میں گھرا ہے کوئی

    چمک رہا ہے جو چاند بن کے

    یہیں سے اٹھ کر گیا ہے کوئی

    ذرا سنبھل کر قدم بڑھانا

    اسی سفر میں لٹا ہے کوئی

    وفا بھی دے دی انا بھی دے دی

    صباؔ سے پھر کیوں خفا ہے کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY