کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا

کیفی اعظمی

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا

کیفی اعظمی

MORE BY کیفی اعظمی

    کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا

    ستارے زیر قدم رات آئے ہیں کیا کیا

    نشیب ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکے

    فراز دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا

    جب اس نے ہار کے خنجر زمیں پہ پھینک دیا

    تمام زخم جگر مسکرائے ہیں کیا کیا

    چھٹا جہاں سے اس آواز کا گھنا بادل

    وہیں سے دھوپ نے تلوے جلائے ہیں کیا کیا

    اٹھا کے سر مجھے اتنا تو دیکھ لینے دے

    کہ قتل گاہ میں دیوانے آئے ہیں کیا کیا

    کہیں اندھیرے سے مانوس ہو نہ جائے ادب

    چراغ تیز ہوا نے بجھائے ہیں کیا کیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites