کہیں تو انتہا بھی ہو کسی کے انتظار کی

پون کمار

کہیں تو انتہا بھی ہو کسی کے انتظار کی

پون کمار

MORE BY پون کمار

    کہیں تو انتہا بھی ہو کسی کے انتظار کی

    جئیں گے اور کب تلک یہ زندگی ادھار کی

    ملے گی فتح یا شکست وقت ہی بتائے گا

    میں لڑ رہا ہوں زندگی سے جنگ آر پار کی

    بھٹک رہے تھے مدتوں سے ہم بھی جسم و جاں لیے

    اسے بھی ایک عمر سے تلاش تھی شکار کی

    سمجھ سکے نہ ہم کبھی کسی کی بے یقینیاں

    بھری ہوئی تھی آنکھ میں تو دھول اعتبار کی

    جنوں ہوا تڑپ ہوئی خلش ہوئی کہ غم ہوا

    یہ دولتیں ہیں عشق کی یہ نعمتیں ہے پیار کی

    قدم مرے جم ہوئے ہیں ایک ہی مقام پر

    وہ کھینچ کر چلا گیا لکیر یوں حصار کی

    اسے کسی کی طرح کیوں بتا رہے ہو اے پونؔ

    مثال ڈھونڈتے ہو کیوں خدا کے شاہکار کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY