کہیں یہ لمحۂ موجود واہمہ ہی نہ ہو

ضیاء المصطفیٰ ترکؔ

کہیں یہ لمحۂ موجود واہمہ ہی نہ ہو

ضیاء المصطفیٰ ترکؔ

MORE BY ضیاء المصطفیٰ ترکؔ

    کہیں یہ لمحۂ موجود واہمہ ہی نہ ہو

    جو ہو رہا ہے یہ سب پہلے ہو چکا ہی نہ ہو

    وہ صدمہ جس کے سبب میں ہوں سر بہ زانو ابھی

    عجب نہیں مری دانست میں ہوا ہی نہ ہو

    ترے غیاب میں جو کچھ کیا حکایت میں

    کہیں وہ گفتہ و نا گفتہ سے سوا ہی نہ ہو

    کلام کرتی ہوئی لہریں چپ نہ ہوں مرے بعد

    مرے لیے کہیں پانی رکا ہوا ہی نہ ہو

    گزرتی شام درخت آب جو سکوت اور میں

    سخن مثال یہ منظر بھی گونجتا ہی نہ ہو

    یہ کیا کہ میں نیا چہرہ لیے اٹھوں ہر روز

    یہ کیا کہ ترکؔ مرا خواب ٹوٹتا ہی نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites