کہنے لگا کھلتے ہوئے دروازہ ہوا سے

احتشام حسن

کہنے لگا کھلتے ہوئے دروازہ ہوا سے

احتشام حسن

MORE BYاحتشام حسن

    کہنے لگا کھلتے ہوئے دروازہ ہوا سے

    یہ پہلا تعارف ہے مرا تازہ ہوا سے

    پھر چوم گئیں پھول کے رخسار ہوائیں

    پھر پھول کے چہرے پہ لگا غازہ ہوا سے

    خوشبو کا سراپا ہے کہ پھولوں کی ہے ترکیب

    وہ آئے تو ہو جاتا ہے اندازہ ہوا سے

    رکھتے ہیں منڈیروں پہ دئے اپنے جلا کر

    ہم نے کبھی پوچھا نہیں خمیازہ ہوا سے

    کل رات دریچوں میں کوئی اور نہیں تھا

    بکھرا تھا خیالات کا شیرازہ ہوا سے

    کہنا ہے اسے جو بھی حسنؔ فون پہ کہہ دو

    اب تیز ہے رفتار میں آوازہ ہوا سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY