کہنے والے زخمی ہیں سننے والے گھائل ہیں

حیات وارثی

کہنے والے زخمی ہیں سننے والے گھائل ہیں

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    کہنے والے زخمی ہیں سننے والے گھائل ہیں

    تیرے پاس اے دنیا کس قدر مسائل ہیں

    مصلحت نے بخشی ہے دوہری شخصیت ہم کو

    دوستی کے قائل ہیں دشمنی پہ مائل ہیں

    خشک لب زمینوں سے کس طرح ملیں بادل

    موسموں کی دیواریں راستوں میں حائل ہیں

    عقل کی کمانوں میں تیر جوڑ کر الٹے

    ہم شکار کی دھن میں خودکشی پہ مائل ہیں

    جستجو نئے پن کی ارتقا کا محور ہے

    ہم بھی اس مقولے کے اے حیاتؔ قائل ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے