کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

غلام بھیک نیرنگ

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

غلام بھیک نیرنگ

MORE BYغلام بھیک نیرنگ

    کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

    ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی

    قیمت میں دید رخ کی ہم نقد جاں لگاتے

    بازار ناز لگتا دل کی خرید ہوتی

    کچھ اپنی بات کہتے کچھ میرا حال سنتے

    ناز و نیاز کی یوں گفت و شنید ہوتی

    جلوے دکھاتے جاتے وہ طرز دلبری کے

    اور دل میں یاں ہوائے ناز مزید ہوتی

    تیغ نظر سے دل پر وہ وار کرتے جاتے

    اور لب پہ یاں صدائے ھل من مزید ہوتی

    ابرو سے ان کے غمزہ تیر ادا لگاتا

    یہ دل قتیل ہوتا یہ جاں شہید ہوتی

    کچھ حوصلہ بڑھاتا انداز لطف جاناں

    کچھ دغدغہ سا ہوتا کچھ کچھ امید ہوتی

    مآخذ:

    • کتاب : Intekhabe Kalam (Pg. 58)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY