کئی کوٹھے چڑھے گا وہ کئی زینوں سے اترے گا

زبیر رضوی

کئی کوٹھے چڑھے گا وہ کئی زینوں سے اترے گا

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    کئی کوٹھے چڑھے گا وہ کئی زینوں سے اترے گا

    بدن کی آگ لے کر شب گئے پھر گھر کو لوٹے گا

    گزرتی شب کے ہونٹوں پر کوئی بے ساختہ بوسہ

    پھر اس کے بعد تو سورج بڑی تیزی سے چمکے گا

    ہماری بستیوں پر دور تک امڈا ہوا بادل

    ہوا کا رخ اگر بدلا تو صحراؤں پہ برسے گا

    غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ پایا

    ہمیں یہ زعم تھا بارش میں اپنا سر نہ بھیگے گا

    میں اس محفل کی روشن ساعتوں کو چھوڑ کر گم ہوں

    اب اتنی رات کو دروازہ اپنا کون کھولے گا

    مرے چاروں طرف پھیلی ہے حرف و صوت کی دنیا

    تمہارا اس طرح ملنا کہانی بن کے پھیلے گا

    پرانے لوگ دریاؤں میں نیکی ڈال آتے تھے

    ہمارے دور کا انسان نیکی کر کے چیخے گا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    زبیر رضوی

    زبیر رضوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY