کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا

شاہین عباس

کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا

شاہین عباس

MORE BYشاہین عباس

    کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا

    گھر کے اندر اور گھر تیار کرنا پڑ گیا

    اس کنارے نے کہا کیا کیا کہوں کیا بات تھی

    بات ایسی تھی کہ دریا پار کرنا پڑ گیا

    پھر بساط خواب اٹھائی اور اوجھل ہو گئے

    شام کا منظر ہمیں ہموار کرنا پڑ گیا

    اک ذرا سا راستہ مانگا تھا ویرانی نے کیا

    اپنا سارا گھر ہمیں مسمار کرنا پڑ گیا

    وہ کہانی وقت کا جس میں تصور ہی نہیں

    اس کہانی میں ہمیں کردار کرنا پڑ گیا

    سرسری سمجھا تری آنکھوں کو ہم نے اور پھر

    سرسری چیزوں پہ بھی اصرار کرنا پڑ گیا

    آخرش سب خواب اس منزل پہ پہنچے ہیں جہاں

    اپنی آنکھوں کا ہمیں انکار کرنا پڑ گیا

    مآخذ :
    • کتاب : Shabkhoon (Urdu Monthly) (Pg. 1269)
    • Author : Shamsur Rahman Faruqi
    • مطبع : Shabkhoon Po. Box No.13, 313 rani Mandi Allahabad (June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II)
    • اشاعت : June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY