کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا

اعتبار ساجد

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا

    یہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا

    آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھی

    نم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا

    کچھ دن تمہارے لوٹ کے آنے کی آس تھی

    اب اس امید کا بھی سہارا نہیں رہا

    رستے مہہ‌ و نجوم کے تبدیل ہو گئے

    ان کھڑکیوں میں ایک بھی تارا نہیں رہا

    سمجھے تھے دوسروں سے بہت مختلف تجھے

    کیا مان لیں کہ تو بھی ہمارا نہیں رہا

    ہاتھوں پہ بجھ گئی ہے مقدر کی کہکشاں

    یا راکھ ہو گیا وہ ستارا نہیں رہا

    تم اعتبار اس کے لیے کیوں اداس ہو

    اک شخص جو کبھی بھی تمہارا نہیں رہا

    مأخذ :
    • کتاب : Mujhe Koi Sham Udhar Do (Pg. 21)
    • Author : Aitabar Sajid
    • مطبع : Ilm o Irfan Publishers Lahore (2007,2009)
    • اشاعت : 2007,2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY