کیسے کیسے میرے منظر ہو گئے

خورشید علیگ

کیسے کیسے میرے منظر ہو گئے

خورشید علیگ

MORE BYخورشید علیگ

    کیسے کیسے میرے منظر ہو گئے

    اشک آنکھوں میں سمندر ہو گئے

    زندگی آوارگی تک آ گئی

    تم سے بچھڑے اور بے گھر ہو گئے

    کوئی منزل اور نہ قدموں کے نشاں

    ہم ترے رستے کا پتھر ہو گئے

    اپنی بربادی کا قصہ مختصر

    حادثے اپنا مقدر ہو گئے

    آئنوں کی یہ جسارت دیکھیے

    میرے قامت کے برابر ہو گئے

    بڑھ گئی خورشیدؔ جب شہرت مری

    دوستوں کے غیر تیور ہو گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY