کیسے کیسے یہ کمالات دکھائیں بابا

گلشن بیابانی

کیسے کیسے یہ کمالات دکھائیں بابا

گلشن بیابانی

MORE BYگلشن بیابانی

    کیسے کیسے یہ کمالات دکھائیں بابا

    لوگ سورج کو ہتھیلی پہ اگائیں بابا

    دودھ بچوں کو بھلا کیسے پلائیں بابا

    ایک مدت ہوئی فاقے سے ہیں مائیں بابا

    لوگ اب اس کو بھی اوتار سمجھ لیتے ہیں

    چھین لیتا ہے جو بہنوں کی ردائیں بابا

    جسم تو جسم ہیں جذبات جھلس جاتے ہیں

    گرم ہوتی ہیں بہت شہری ہوائیں بابا

    کچی کلیوں کو حسیں پھول بنا دیتی ہیں

    کتنی بد ذات ہیں سورج کی شعاعیں بابا

    دوست حق بات پہ گویا تو ہیں لیکن ایسے

    جیسے گویا ہوں اجنتا کی گپھائیں بابا

    توبہ کرتی ہے مگر آج نہیں کل گلشنؔ

    آج تو چھائی ہیں گھنگھور گھٹائیں بابا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY