کل شام لب بام جو وہ جلوہ نما تھا

حمید جالندھری

کل شام لب بام جو وہ جلوہ نما تھا

حمید جالندھری

MORE BYحمید جالندھری

    کل شام لب بام جو وہ جلوہ نما تھا

    کس شوق سے میں دور کھڑا دیکھ رہا تھا

    جب دوست بھی دشمن کا طرف دار ہوا تھا

    ٹھنکا تھا اسی دن سر محفل مرا ماتھا

    گونجا ہوا اک نغمہ سر ارض و سما تھا

    نغمہ تھا کہ بیتی ہوئی صدیوں کی صدا تھا

    بھولی نہیں اجڑے ہوئے گلشن کی بہاریں

    ہاں یاد ہیں وہ دن کہ ہمارا بھی خدا تھا

    ہر برگ سے آتی تھی گل و لالہ کی خوشبو

    ہر موج ہوا میں نفس یار گھلا تھا

    تاثیر بدامن تھیں جوانی کی دعائیں

    ہر آہ اثر خیز تھی ہر نالہ رسا تھا

    جھپکی تھی ذرا آنکھ کہ برہم ہوئی محفل

    ہم نے ابھی کچھ ان سے کہا تھا نہ سنا تھا

    جس بات کا اظہار تھا اظہار حقیقت

    دیکھا تو اسی بات پہ ہنگامہ بپا تھا

    وہ درپئے آزار ہیں احباب مخالف

    یہ دن بھی غریبوں کے مقدر میں لکھا تھا

    کیا دیکھ لیا آج کہ جی سوچ رہا ہے

    یہ واقعہ یوں ہی کبھی پہلے بھی ہوا تھا

    ہم بزم سے جائیں گے تو احباب کہیں گے

    اک شاعر آوارہ یہاں نغمہ سرا تھا

    بیگانہ وشی کم نہ ہوئی آپ کی اس سے

    ہر چند حمیدؔ آپ کا پابند وفا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Shaam e Sehra (Pg. 161)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY