کلیجا منہ کو آیا اور نفس کرنے لگا تنگی

شیخ ظہور الدین حاتم

کلیجا منہ کو آیا اور نفس کرنے لگا تنگی

شیخ ظہور الدین حاتم

MORE BYشیخ ظہور الدین حاتم

    کلیجا منہ کو آیا اور نفس کرنے لگا تنگی

    ہوا کیا جان کو میری ابھی تو تھی بھلی چنگی

    ذقن کی چاہ میں یہ سبزئ خط زہر قاتل ہے

    پری ہے بھانگ کوئے میں نہ ہو کیوں خلق چت بھنگی

    جہاں کی طرح سو سو رنگ پل پل میں بدلتا ہے

    کبھو کچھ ہے کبھو کچھ ہے کبھو کچھ ہے وہ بہو رنگی

    ترے رخسار سے بے طرح لپٹی جائے ہے ظالم

    جو کچھ کہیے تو بل کھا الجھتی ہے زلف بے ڈھنگی

    غریبوں کا خدا حافظ ہے حاتمؔ دیکھیے کیا ہو

    کہ وہ ہے چور کیفی ہاتھ میں شمشیر ہے ننگی

    مأخذ :
    • کتاب : Diwan-e-Zadah (Pg. 337)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY