کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گے

آر پی شوخ

کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گے

آر پی شوخ

MORE BYآر پی شوخ

    کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گے

    آبلہ پائی کہیں خار تو ہوتے ہوں گے

    مجھ سے یہ سوچ کے وہ میرا پتا پوچھے تھا

    تنگ دستوں کے بھی گھر بار تو ہوتے ہوں گے

    اس سے بچھڑا میں اندھیروں کا مکیں ہوں ورنہ

    کوئی گھر ہو در و دیوار تو ہوتے ہوں گے

    وہ جہاں بھی ہو اسے دیکھ کے اس شہر کے لوگ

    کو بہ کو نقش بہ دیوار تو ہوتے ہوں گے

    مرگ جو اپنی طرح کوئی وہاں ہو کہ نہ ہو

    لوگ اسے دیکھ کے بیمار تو ہوتے ہوں گے

    بے گنہ بھی تھا نہتھا بھی تھا میں اے قاتل

    قتل کرنے کے بھی معیار تو ہوتے ہوں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے