کم کم رہنا غم کے سرخ جزیروں میں

بقا بلوچ

کم کم رہنا غم کے سرخ جزیروں میں

بقا بلوچ

MORE BYبقا بلوچ

    کم کم رہنا غم کے سرخ جزیروں میں

    یہ جو سرخ جزیرے ہیں سب خونیں ہیں

    کم کم بہنا دل دریا کے دھارے پر

    یہ جو غم کے دھارے ہیں سب خونیں ہیں

    ہجر کی پہلی شام ہو یا ہو وصل کا دن

    جتنے منظر نامے ہیں سب خونیں ہیں

    ہر کوچے میں ارمانوں کا خون ہوا

    شہر کے جتنے رستے ہیں سب خونیں ہیں

    ایک وصیت میں نے اس کے نام لکھی

    یہ جو پیار کے ناتے ہیں سب خونیں ہیں

    کون یہاں اس راز کا پردہ چاک کرے

    جتنے خون کے رشتے ہیں سب خونیں ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY