کم الجھتی ہے چراغوں سے ہوا میرے بعد

محشر بدایونی

کم الجھتی ہے چراغوں سے ہوا میرے بعد

محشر بدایونی

MORE BY محشر بدایونی

    کم الجھتی ہے چراغوں سے ہوا میرے بعد

    شہر میں شہر کا موسم نہ رہا میرے بعد

    میں نے جل کر نہ دیا مصلحت وقت کا ساتھ

    کیا خبر کون جلا کون بجھا میرے بعد

    سچ کی خاطر سر شعلہ بھی زباں رکھ دیتا

    بات یہ ہے کوئی مجھ سا نہ رہا میرے بعد

    ڈوبنا تھا سو میں اک موج میں پس ڈوب گیا

    اور دریا تھا کہ بہتا ہی رہا میرے بعد

    پھر کوئی شام شفق دیدہ بھی اتری کہ نہیں

    میری تنہائی کا کیا رنگ ہوا میرے بعد

    اور کیا حشر تھا اس انجمن افروزی کا

    بس یہی تھا کہ دھواں اور بڑھا میرے بعد

    یوں میں آسودۂ منزل ہوں کہ اب گرد سفر

    چومتی ہے مرا نقش کف پا میرے بعد

    کیا برا وقت پڑا شہر وفا پر محشرؔ

    مجھ کو ہی ڈھونڈتی ہے میری وفا میرے بعد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY