کمال تازہ بہانے سے یہ غزل ہوئی ہے

عدنان خالد

کمال تازہ بہانے سے یہ غزل ہوئی ہے

عدنان خالد

MORE BYعدنان خالد

    کمال تازہ بہانے سے یہ غزل ہوئی ہے

    کسی کی یاد کے آنے سے یہ غزل ہوئی ہے

    نہیں ہے کچھ بھی مگر معجزہ ہے الہامی

    کہ میرے جیسے دوانے سے یہ غزل ہوئی ہے

    گلوں کو آب لگانے کا ہے ثمر خوشبو

    سخن کا باغ سجانے سے یہ غزل ہوئی ہے

    تمہارے چھوڑ کے جانے سے وہ غزل ہوئی تھی

    تمہارے لوٹ کے آنے سے یہ غزل ہوئی ہے

    انیسؔ و غالبؔ و سوداؔ کے ہے طفیل سبھی

    انہی کو سننے سنانے سے یہ غزل ہوئی ہے

    لیا ہے ہم نے تری چشم سے تغزل اور

    اسی پہ مصرعہ لگانے سے یہ غزل ہوئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY