کماں اٹھاؤ کہ ہیں سامنے نشانے بہت

حسن عزیز

کماں اٹھاؤ کہ ہیں سامنے نشانے بہت

حسن عزیز

MORE BYحسن عزیز

    کماں اٹھاؤ کہ ہیں سامنے نشانے بہت

    ابھی تو خالی پڑے ہیں لہو کے خانے بہت

    وہ دھوپ تھی کہ ہوئی جا رہی تھی جسم کے پار

    اگرچہ ہم نے گھنے سائے سر پہ تانے بہت

    ابھی کچھ اور کا احساس پھر بھی زندہ ہے

    نواح جسم کے اسرار ہم نے جانے بہت

    زیادہ کچھ بھی نہیں ایک مشت خاک سے میں

    ذرا سی چیز کو پھیلا دیا ہوا نے بہت

    لگا ہوا ہوں ادھر وقت کو سمیٹنے میں

    پھسل رہے ہیں ادھر ہاتھ سے زمانے بہت

    سفر قیام سے بہتر نہیں رہا اب کے

    کہ جا بجا تھے مری راہ میں ٹھکانے بہت

    بڑی عجیب تھی پچھلی خموش رات حسنؔ

    مجھے رلایا کسی دور کی صدا نے بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY