کمایا لٹایا بچایا نہیں
کمایا لٹایا بچایا نہیں
مگر ایک پیسہ گنوایا نہیں
کبھی کوئی خوابوں میں آیا نہیں
مقدر مرا جگمگایا نہیں
کرم یہ رہا دوستوں کا مرے
کبھی ایک پل مسکرایا نہیں
وہ چاہت وہ حسرت وہ وعدے وفا
جنہیں آج بھی بھول پایا نہیں
عیاں زندگی کا ہر ایک پرشٹھ ہے
زمانے سے ہم نے چھپایا نہیں
کٹا ڈالے سر ہیں وطن کے لیے
مگر سر کو اپنے جھکایا نہیں
ہے لہروں کا احساں مدھوکرؔ بہت
سمندر ڈبا مجھ کو پایا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.